رضاعی ماموں سے نکاح درست نہیں
سوال
نواسی کا نکاح رضاعی ماموں سے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ہو گیا ہے، بعد میں اس کے رضاعی ماموں ہونے کا علم ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نکاح ہونے کے بعد جب عورت حاملہ ہو چکی ہے اس کی نانی نے دورانِ گفتگو اس بات کا اقرار کیا کہ بچپن میں جب شوہر کی والدہ شدید بیمار تھیں تو میں نے اس وقت لڑکے کو دودھ پلایا تھا۔ اس بناء پر شوہر اپنی منکوحہ کا رضاعی ماموں ہوتا ہے۔ اس کا نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ اور عنقریب جو بچہ پیدا ہونے والا ہے وہ حلالی ہے یا حرامی۔
جواب
اگر شوہر کے نزدیک یہ بات صحیح ہے کہ اس کی زوجہ اس کی رضاعی بھانجی ہے تو یہ نکاح صحیح نہیں ہوا فوراً اسکو علیحدہ کر دے۔ بچہ پیدا ہونے سے پہلے اس کے متعلق کچھ نہ دریافت کیا جائے۔ اگر شوہر کے نزدیک یہ بات غلط ہے تو اس نکاح کو نا جائز نہیں کہا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔