الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح اور تولد کے بعد حرمت رضاعت کا علم ہوا

سوال

زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور نکاح کو تقریباً تین سال ہو گئے اور اس دوران دو بچے ہندہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ تقریباً تین سال کے بعد معلوم ہوا کہ زید نے ہندہ کی نانی کا دودھ مدت رضاعت میں پیا تھا جس کے سلسلہ میں علماء نے فتویٰ دیا کہ دونوں یکجا نہیں رہ سکتے۔ اس کے بعد دونوں کو الگ الگ کر دیا گیا۔ لیکن زبانی طلاق نہیں ہو پائی ہے اور اس کے بعد زید نے دوسری شادی بھی کر لی ہے تو کیا زید سے الفاظ طلاق کہلوانا بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اور کیا زید سے جو دونوں بچے ہندہ کے بطن سے پیدا ہوئے ثابت النسب ہیں یا نہیں؟

جواب

زید کا ہندہ سے نکاح ایسی حالت میں ہوا کہ حرمت رضاعت کا علم نہیں تھا۔ لہذا یہ نکاح فاسد ہوا۔ جو بچے ہوئے وہ ثابت النسب ہیں۔ رضاعت کا علم ہونے پر زید زبان سے کہدے کہ میں نے ہندہ سے تعلق زوجیت ختم کر دیا۔ پھر عدت گزار کر ہندہ دوسری جگہ نکاح کرے۔ وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بأخر الابعد المتاركة وانقضاء العدة اھ در مختار.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو