رضاعی بھانجی سے نکاح
سوال
میرے ایک ملنے والے ہیں جن کے متعلق مندرجہ ذیل معلومات کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں پر ایک نکاح ہوا ہے اور بعد نکاح یہ معلوم ہوا کہ لڑکی نے شوہر کی حقیقی بہن کا دودھ بچپن میں ایک دو ماہ تک پیا۔ کیونکہ پیدائش کے بعد لڑکی کی والدہ بیمار ہونے کے سبب اس کو دودھ نہ پلا سکی اور اس کو شوہر کی بہن کا دودھ پلایا گیا۔ تو شریعت کے مطابق یہ نکاح ہو گیا ہے یا نہیں؟ اگر نکاح نہیں ہوا تو شرعاً کیا کرنا چاہئے؟
جواب
رضاعی بھانجی سے نکاح حرام ہے اگر غلطی سے ایسا کر دیا گیا تو فوراً ان دونوں میں جدائی کرا دی جائے اور شوہر کہدے کہ میں نے تعلّق زوجیت ختم کر دیا اور طلاق دیدی، اس کے بعد عدت تین حیض گزار کر لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر دیا جائے۔ اگر دونوں میں خلوت نہیں ہوئی تو طلاق کے بعد عدت لازم نہ ہوگی
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔