رضاعی بہن سے نکاح کا حکم
سوال
ایک آدمی بالفرض زید اس کے دو بیٹے اور پہلے لڑکے سے ایک لڑکی ہے اور دوسرے سے ایک لڑکا دوسرے لڑکے کے لڑکے نے اپنی دادی کی چھاتی سے دودھ پیا ہے اور پہلے لڑکے کی لڑکی نے دودھ نہیں پیا ہے۔ اب آپ یہ بتائیں کہ کیا دونوں لڑکوں کی لڑکی و لڑکوں سے شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ دوسرے لڑکے نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے۔ کیا ان پر حکم رضاعت کی وجہ سے شادی ممنوع ہو سکتی ہے یا حکم رضاعی کا اطلاق نہیں ہو گا؟
جواب
جس لڑکے نے مدت رضاعت میں اپنی دادی کا دودھ پیا ہے وہ دادی اس کی رضاعی ماں ہوگئی ہے۔ اب اس دادی کی اولاد اور اولاد کی اولاد کسی سے بھی اس لڑکے کی شادی شرعاً درست نہیں چاہے کسی نے اس دادی کا دودھ پیا ہو یا نہ پیا ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔