رضاعی بہن سے نکاح
سوال
خالد کی ماں کی جانکنی کی حالت میں رشیدہ کی ماں نے خالد کو دودھ پلایا اور رشیدہ کی ماں کی قریب المرگ حالت میں خالد کی ماں نے رشیدہ کو دودھ پلایا۔ آگے چل کر رشیدہ کی شادی افسر سے ہو گئی اور ایک نرینہ اولاد بھی موجود ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خالد کی شادی جمیلہ سے عنقریب ہونے والی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ مطلع فرمائیں تا کہ اظہار حق ہو۔ نوٹ: رحیمہ بی کے دو شوہر ہوئے اور دونوں وفات پاگئے۔ ہر ایک سے ایک ایک بچی موجود ہے۔ رشیدہ وجمیلہ، نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔ (۱) الیمہ زوج اولی حامد صاحب مرحوم(۲)
جواب
خالد نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس کی رضاعی ماں ہوگئی۔ اس کی کسی اولاد سے خالد کا نکاح درست نہیں۔ ويحرم من الرضاع ما يحرم من النسب شامی ص۳۳۰ ج ۲۔ ایسے ہی اگر رشیدہ نے خالد کی ماں کا دودھ پیا جیسا کہ سوال کی ابتدائی عبارت سے سمجھ میں آتا ہے تو وہ اس کی ماں ہو گئی اس کی کسی اولاد سے رشیدہ کا نکاح درست نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔