الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رضاعی اور سوتیلی بہن سے نکاح

سوال

زید نے سوتیلی بہن سے نکاح کیا اس لڑکی کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا جب کہ وہ پندرہ روز کی تھی۔ جب وہ تین ماہ کی ہو گئی تو اس نے زید کی ماں کا دودھ پستان سے پیا۔ تقریباً ایک سال تک دودھ پیا اور تقریباً پندرہ بیس آدمی گواہ ہیں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے جس نے نکاح پڑھایا اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے۔ قرآن اور حدیث سے حوالہ فرمائیں۔

جواب

یہ نکاح حرام ہے ہر دو میں تفریق واجب ہے زید اور اس کی بہن اور نکاح پڑھانے والا اور نکاح میں شریک ہونے والے اور اس نکاح سے راضی ہونے والے اور باوجود قدرت کے اس نکاح سے نہ روکنے والے سب گنہ گار ہوئے۔ سب کو علی الاعلان توبہ ضروری ہے کوشش کر کے زید کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی رضاعی بہن کو چھوڑ دے اور طلاق دیدے۔ جو شخص توبہ نہ کرے اس سے تعلق نہ رکھا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو