الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح

سوال

قمر الدین کے ساتھ اس کی چچازاد بہن نے دودھ پیا ہے اور پھر اس کے بعد چچازاد بہن کی کسی کے یہاں شادی ہوگئی اور لڑکی پیدا ہوگئی۔ اب اس لڑکی سے قمر الدین کے بڑے بھائی لعل الدین کی شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ کیا رضاعت کا کوئی درجہ ان میں بھی ہو سکتا ہے؟ براہ کرم بالتفصیل جواب سے مطلع کریں۔

جواب

حقیقی بھائی کی رضاعی بھانجی سے نکاح درست ہے، شرعاً جائز ہے۔ لہذا لعل الدین کی شادی قمر الدین کی رضاعی بہن کی لڑکی سے شرعاً جائز ہے، جب کہ چچازاد بہن نے لعل الدین کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو، بلکہ قمرالدین کے ساتھ کسی غیر عورت کا دودھ پیا ہو۔ لیکن اگر قمر الدین کی والدہ کا دودھ پیا ہے تو قمر الدین کی طرح وہ لعل الدین کی بھی بہن ہوگی اور لعل الدین سے اس کی لڑکی کا نکاح جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو