بھول سے رضاعی بہن سے نکاح
سوال
ایک شخص کی شادی ہوگئی تھی۔ چند سال گذرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں یعنی داماد نے اپنی ساس کا دودھ پیا ہے۔ اس وقت دو تین بچے ہیں۔ اب کیا کرنا چاہئے؟
جواب
اگر یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں اور بے خبری میں نکاح کر لیا گیا تھا تو فوراً اس کو طلاق دے کر تعلق نکاح ختم کر دے۔ اور وہ مطلقہ بعد عدت دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرلے۔ رضاعی بھائی بہن میں پردہ نہیں ہے۔ بعد میں اس سے بہن کی حیثیت سے ملنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔