اندیشہ مصاہرت والے نکاح میں شرکت
سوال
زید جو ڈاکٹری اور حکمت کرتا ہے اور ہندہ جو دائی کا کام کرتی ہے اور ڈاکٹر مذکور کی اس میں مدد کرتی ہے، جس کی وجہ سے دونوں میں کافی اختلاط ہوتا رہتا ہے۔ ہندہ کی ایک جوان لڑکی ہے اور ہندہ اپنی اس لڑکی کا نکاح زید سے کرنا چاہتی ہے ایک صاحب جو محتاط ہیں وہ اس نکاح میں شرکت نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن ان دونوں کا کہنا ہے کہ ہم برائی سے بالکل بری ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر ان دونوں سے حلف لے کر شرکت کر لیں تو کوئی حرج تو نہیں ہے۔
جواب
علاج ودوا میں مدد کرنے کی بناء پر جو اختلاط ہوتا ہے اس کو نا جائز تعلق پر محمول کر کے متہم کرنا جائز نہیں اور جب کہ برأت پر وہ حلف بھی کرتے ہیں تو شرعا اس نکاح کو نا جائز نہیں کہا جائے گا اور اس میں شرکت ممنوع نہیں، اگرچہ مواقع تہمت سے بچنا بھی لازم ہے کے لہذا علاج میں مدد حدود کے اندر رہ کر کریں تا کہ بدگمانی کا موقع بھی نہ رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔