الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیٹے کی بیوی سے تعلق

سوال

ایک شخص نے اپنے حقیقی بیٹے کی زوجہ سے بعدم موجودگی پسر خود فعل ناجائز کیا اس عورت کو خسر کا حمل حرام ہو گیا بیٹے کے پاس اس عورت کو بھیجا اس نے یہ امر ظاہر ہونے پر اس کو واپس نکالدیا بعد گذرنے ایام حمل لڑکا پیدا ہو گیا۔ اس کے لڑکے نے آگے بڑا فساد پیدا کیا اس کو طلاق کے واسطے کہا گیا اور مہر طلب کیا گیا تو مہر ۵۰۰/ روپیہ تھا وہ ادائیگی کی وسعت نہ رکھتا تھا اس وجہ سے طلاق نہ دے سکا اور ملازمت پر چلا گیا اس اثناء میں دوسرا بچہ اس خسر کا پیدا ہو گیا۔

جواب

صورت مسئولہ میں لڑکے پر اس کی بیوی حرام تو ہوگئی مگر نکاح کرنا اس عورت کو بلا تفریق قاضی یا بلا متارکت جائز نہیں، البتہ اگر شوہر کہدے کہ میں نے چھوڑ دی یا قاضی تفریق کر دے اور پھر عدت بھی گذر جائے تب عورت کو کسی دوسری جگہ نکاح کرنا درست ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو