الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرمت مصاہرت اور وجوب حد زنا میں فرق

سوال

زید وہندہ کسی عالم کے آگے جا کر اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے زنا کیا ہے خواہ وہ عالم ان دونوں کا حکم ہو جائے یا نہ، کیا صورت مذکورہ میں مصاہرت عند الاحناف ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔ یعنی بر تقدیر ثبوت زنا کے ہندہ کی ماں یا دختر کا نکاح زید کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ زنا کا ثبوت دو طرح پر ہے ایک یہ کہ قاضی کے آگے جا کر چار گواہ عدول بدین طور اپنی شہادت ادا کریں کہ رأيناه وطئها في فرجها كالميل في المكحلة. دوم یہ ہے کہ دونوں زنا کنندگان صریحاً قاضی کے آگے جا کر زنا کا اقرار چار مجلس میں کریں۔

جواب

ثبوت زنا کی جو صورتیں سائل نے نقل کی ہیں وہ وجوب حد کے لئے ہیں کیونکہ حد کو شبہات کی بناء پر ساقط کرنے کا حکم ہے ادرؤا الحدود ما استطعتم ما استطعتم الحديث ثبوت حرمت مصاہرت کے لئے ان صورتوں کی ضرورت نہیں ہے کہ نفس اقرار یا شہادت کافی ہے اپنے اقرار پر اصرار بھی ضروری نہیں حتی کہ اگر اقرار سے رجوع کر کے اپنی تکذیب کر دے تو شرعاً وہ تکذیب معتبر نہیں اور اس حرمت کا ثبوت جس طرح زنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو