حرمت مصاہرت کے لئے مرد کا اقرار
سوال
ایک آدمی پر الزام ہے کہ اس نے اپنی لڑکی کے ساتھ زنا کیا ہے مگر کہیں سے اس کا ثبوت نہیں ہے۔ کہ کیا سچ ہے یا غلط ہے۔ گواہ (۱) اس آدمی کی زوجہ کہتی ہے کہ میں نے شوہر کا ذکر کھڑا دیکھا۔ تو شک ہوا کہ یہ زنا کر کے آئے ہیں۔ گواہ (۲) لڑکی کی عمر ۹ ر سال اس کا بیان ہے کہ سب جھوٹ ہے کچھ نہیں ہوا، خود وہ شخص کہتا ہے کہ خدا گواہ ہے کچھ نہیں ہوا جب کہ وہ پہلے ایک یا دو مولوی کے سامنے زنا کا اقرار کر چکا ہے، دوسرے روز کہتا ہے کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں ہے، کہ میں نے کیا کہا ہے۔ اس صورت میں اسکی زوجہ حرام ہو گئی یا نہیں؟ فقط
جواب
عورت کا جو کچھ بیان ہے وہ تو ثبوت زنا کے لئے بالکل کافی نہیں لیکن مرد کا اقرار کر لینا حرمت کے لئے کافی ہوگا، یعنی جس نے دو مولویوں کے سامنے اقرار کیا اور وہ گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اقرار کیا ہے کہ اس نے اپنی لڑکی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس پر اس کی عورت یعنی لڑکی کی ماں حرام ہو گئی ہے کہ اس سے علیحدگی ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔