الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ساس کا بدن دبانے سے حرمت

سوال

زید جوان مرد نے ہندہ کی بیٹی زینب سے نکاح کیا زینب کے قبل بلوغ ہندہ کی زبانی معلوم ہوا کہ زید ایک رات کہ نصف کے قریب گذر چکی تھی ہندہ کی چار پائی پر آبیٹھا اس حالت میں کہ ہندہ کپڑے وغیرہ اتار کر سوئی ہوئی تھی لیٹنے کے وقت جو معمولی کپڑے پہنے جاتے ہیں وہی پہنے ہوئے تھی زید بیٹھ کر ہندہ کا بدن دبانے لگا۔ ہندہ نے کہا کہ میں کوئی تھکی ماندی نہیں ہوں اور یہ وقت بدن دبانے کا نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد جب زید کو یقین ہو گیا کہ اگر میں نہ جاؤں گا تو ہندہ شور مچادے گی اس وقت چلا گیا۔

جواب

صورت مسئولہ میں زید کا قول شرعاً معتبر ہو گا جب تک اس کے خلاف قرائن ظاہرہ سے یقین یا ظن غالب حاصل نہ ہو جائے اور زید کے بچھونے پر رطوبت کا صبح کو پایا جانا اس پر قرینہ ظاہرہ نہیں کہ اس نے ہندہ کو شہوت سے مس کیا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ شب کو احتلام ہو گیا ہو لہذا اس کی بیٹی زید پر حرام نہیں ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو