الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرمت مصاہرت کے اقرار سے رجوع

سوال

آج سے ۴ سال پہلے صبر وبیگم زوجہ حسین خاں نے اپنے شوہر حسین کی زندگی میں جب حسین خاں کہیں دوسری جگہ مزدوری کرنے گیا ہوا تھا صبر وبیگم نے اپنے دیور مسمی سموخاں کے برخلاف علاقہ کے قاضی صاحب وغیرہ معتبر ان علاقہ کے سامنے چند کسان گواہوں کی موجودگی میں یہ دعویٰ پیش کیا کہ میرے دیور سموخاں نے آج رات مجھ پر ہاتھ ڈالا اور مجھے پکڑا اور میرے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے، قاضی صاحب نے مسماۃ صبر وبیگم کے بیانات سن کر یک گونہ افہام تفہیم کی اور معاملہ کی تدارک رئیس علاقہ راجہ اللہ داد خاں کے سپرد کی اور اس رات کو سمو خاں اپنے گھر…

جواب

جبکہ مسماۃ نے اپنے دیور کے متعلق دعوئی اور اقرار زنا کیا تو مسماۃ کے حق میں اس دیور کی اولاد کی حرمت ثابت ہوگئی اب اس کے لڑکے سے نکاح جائز نہیں مسماۃ کا اب یہ کہنا کہ میں نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس نکاح کے حق میں قابل قبول نہیں۔ اقرار کا حجت قاصرہ ہونا مسلم ہے۔ یہاں بھی مقرہ کے حق میں اس اقرار کی وجہ سے حرمت ثابت ہوئی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو