حرمت مصاہرت محض ظن سے
سوال
(۱) ہندہ ایک دفعہ اپنی ساس سے جھگڑتے ہوئے کہتی ہے کل کو تو مجھے اور تہمت بھی لگادیگی یعنی تیرا تعلق بکر سے ناجائز ہے بکر اس بات کو سنکر مسکرایا۔ (۲) زید مع اپنی بیوی کے سفر میں تھا تو بکر یعنی زید کا باپ ملنے آیا پندرہ بیس روز رہا ہندہ خوب ان دنوں بکر کی خدمت کرتی رہی۔ بڑی بے تکلفی سے باتیں کرتے رہتے اور ہندہ خوب دنداسہ مل کر ہونٹوں کو سرخ کرتی اور آنکھوں میں سرمہ ڈالتی اور وہ دو پٹہ جو ۲۷/۲۶/ سال کا بیاہ کا پڑا ہوا تھا اس نے نکال کر اپنے اوپر لے لیا اس پر زید کو شک ہوا چنانچہ زید رات کو اپنے پیشاب کے بار بار آنے…
جواب
اگر زید کو ہندہ کا یقین ہے کہ وہ اپنے بیان میں سچی ہے تو وہ زید پر حرام نہیں ہوئی نکاح بدستور باقی ہے۔ مگر بکر سے اس قدر بے تکلفی اور اختلاط نہیں چاہئے اس کے انتظام کی ضرورت ہے اور اگر زید کو ہندہ کا یقین نہیں بلکہ اس کو ظن غالب ہے کہ ہندہ کا تعلق بکر سے نا جائز ہے اور مس بالشہوۃ کی نوبت آئی ہے، تو اس کو علیحدہ کر دے یعنی طلاق دے کر تعلق منقطع کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔