حرمت مصاہرت کی شرط
سوال
مسماۃ فاطمہ اپنے شوہر زید کے گھر بطریق سکونت گئی اور پدر زید سمی عمر بھی همراه پسر خود زید سکونت پذیر ہے کچھ عرصہ بعد مسماۃ فاطمہ نے اپنے میکے جا کر خسر خود عمر کو متہم کیا کہ میرے خسر عمر نے بنگاه بد مجھے پکڑا اور ارادہ بد کا رکھتا ہے اور کوئی گواہ موجود نہیں بلکہ عام لوگ کہتے ہیں کہ واقعی یہ واقعہ درست ہے مگر شاہد عینی کوئی نہیں خصومت میں سب لوگ انگشت نما ہیں۔ پنچایت نے زوجہ فاطمہ کو شو ہر زید سے چھڑالیا یعنی بلا طلاق حاصل کئے کوئی نکاح غیر پڑھانا چاہتے ہیں۔ جواب تحریر فرمادیں۔۲۱ / شعبان ۵۶
جواب
اگر زید کو مسماۃ فاطمہ کے قول کے صدق کا یقین یاظن غالب ہے تو وہ زید پر حرام ہوگئی لیکن اس سے نکاح نہیں ٹوٹا جب تک متارکت ومفارقت اس طرح نہ ہو جائے کہ زید کہدے کہ میں نے تجھ کو چھوڑ دیا یا طلاق دیدی تیرا دل جہاں چاہے نکاح کرلے اور اس کے بعد عدت گذر جائے اس وقت تک دوسری جگہ نکاح درست نہیں۔ اگر زید کو اس کے صدق کا یقین اور ظن غالب نہیں تو وہ حرام ہی نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔