خسر کا اپنے بیٹے کی بہو کے سینہ کو اپنے سینہ سے ملانا
سوال
لعل میاں سارنگ اور اس کی بہو کے درمیان مندرجہ ذیل واقعات پیش آئے۔ اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوئی یا نہیں؟ حلفیہ بیان حلیمہ کا رو بر وعدالت: پہلا واقعہ: تقریباً ایک مہینہ ہوا ایک دن دو پہر سے پہلے میرے خسر صاحب کھیت یعنی زمین سے غسل کرنے کے واسطے حوض کے گھاٹ پر آئے تھے میں اس وقت اندر مکان سے گھاس لا رہی تھی اس نے مجھ سے کہا کہ میرا کپڑا لا دے میں نے کپڑا لا دیا پھر دوبارہ جب میں گھاس لائی دیکھتی ہوں کہ وہ غسل کر کے ڈیوڑھی میں داخل ہوا پھر مجھے کہا کہ حلیمہ تو اس طرف آجا۔
جواب
اگر حلیمہ کے اس بیان کی کہ اس کو اس کے خسر نے شہوت سے ہاتھ لگایا ہے حلیمہ کا شوہر تصدیق کرتا ہے اور اس کو حلیمہ کے سچا ہونے کا یقین یاظن غالب ہے تو وہ اپنے شوہر کے او پر حرام ہوگئی متارکت لازم ہے اور متارکت کے بعد عدت گزار کر حلیمہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے خسر سے اس وقت بھی درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔