خسر اور بہو کا ناجائز تعلق
سوال
ایک مسلمان دھوبی کا لڑکا مر گیا، اور اسکی بہو وہیں رہنے لگی اور خسر کی خدمت کرنے لگی، پھر خسر اور بہو کا ناجائز تعلق ہو گیا، جس سے تین لڑکیاں ہوئیں، اس پر محلہ والوں نے ان کا بائکاٹ کر دیا اب یہ معافی چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوئی، اب ان بچوں کے لئے کیا حکم ہے؟ یہ بچے مسلمان ہیں یا نہیں؟ ان بچوں کو اسلام برادری میں لیا جائے گا یا نہیں؟ اب ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے؟
جواب
حرکت نہایت بے غیرتی اور حرام کاری ہے، صدق دل سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور ان دونوں مرد وعورت کو جدا جدا کر دیا جائے کوئی تعلق باقی نہ رہے، ان بچوں کو مسلمان ہی قرار دیا جائیگا، ان کی پرورش لازم ہے، ان سے قطع تعلق نہ کیا جائے، اور وہ دونوں توبہ کر کے الگ الگ ہو جائیں، اور حرام کاری چھوڑ دیں، اور ان سے جو قطع تعلق اصلاح کے لئے کیا تھا اس کو ختم کر دیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔