الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے

سوال

زید کی بڑی لڑکی عمر کے بڑے لڑکے سے منسوب ہے۔ جانبین کے تعلقات بحمد اللہ بہت خوشگوار ہیں۔ عمر کی خواہش ہے کہ اس کے چھوٹے لڑکے کا رشتہ بھی زید کی چھوٹی لڑکی سے ہو جائے۔ مگر زید کو یہ عذر ہے کہ چونکہ اس کی تین پشتوں سے ایسا ہوتا آیا ہے کہ جب کبھی اس کے کنبہ کی دو بہنیں ایک ہی گھر میں دو سگے بھائیوں سے منسوب ہوئی ہیں تو راس نہیں آیا ہے یعنی ایک بھائی یا ایک بہن فوت ہو گئی۔ اس لئے معذور ہے۔ از روئے شرع زید کا ایسا عقیدہ رکھنا اور خوف زدہ ہونا جائز ہے یا باطل؟

جواب

دو بہنوں کی شادی ایک گھر میں دو بھائیوں سے ہونے کی بناء پر یہ تصور کرنا یا عقیدہ رکھنا کہ ایک بہن ضرور مر جائے گی یا ایک بھائی مرجائے گا، گھر آباد نہیں ہو سکے گا شرعا بے بنیاد اور غلط ہے۔ اس کی اصلاح ضروری ہے۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے خواہ ایک گھر میں شادی ہو یا علیحدہ علیحدہ۔ گھروں میں بالکل شادی نہ ہو، موت اپنے وقت پر آئے گی نہ مؤخر ہوگی نہ مقدم کیا چھوٹے بچوں کو موت نہیں آتی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · اردو