دو بیویوں کی اولاد کا نکاح
سوال
زید کی دو بیویاں ہیں۔ زوجہ اولیٰ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اس کے انتقال کے بعد زید نے نکاح ثانی کیا اس نکاح سے دو اولاد نرینہ پیدا ہوئی اور زوجہ ثانی کے ایک حقیقی بھائی بکر نے زوجہ اولیٰ کی لڑکی سے نکاح کر لیا۔ آیا یہ نکاح از روئے شریعت درست ہے؟ نیز زوجۂ ثانی کی اولاد نرینہ زوجہ اولی کی اولاد اناثہ سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ مدلل جواب سے نوازیں۔
جواب
زوجہ ثانی کے حقیقی بھائی بکر نے جو زید کی زوجہ اولیٰ کی لڑکی سے نکاح کیا ہے تو یہ شرعاً درست ہے۔ اس سے حرمت مصاہرت نہیں، نہ نسبی حرمت ہے۔ اگر کوئی حرمت رضاعت ہو تو امر آخر ہے۔ دوسری صورت میں زوجہ ثانیہ اور زوجہ اولیٰ کی اولاد باپ میں شریک ہیں، لہذا یہ علاقی بھائی بہن ہیں ان کا نکاح آپس میں درست نہیں لقوله تعالى حُرِّمَتْ عليكم امهاتكم وبناتكم واخواتكم الخ.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔