نومسلمہ کا نکاح
سوال
ہندوستان میں ایک عورت مسلمان ہوگئی اور اس کا خاوند کفر پر ہے۔ اس میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندوستان اگر دارالحرب ہے تو فرقت کے لئے تین حیض ضروری ہے۔ کیونکہ اسلام عدم ولایت کی وجہ سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہاں بعض دفعہ میں پیش کیا جاسکتا ہے بعض دفعہ نہیں، جیسا کہ ظاہر ہے اور اگر دارالامن ہے تو مذکورہ صورت کا کیا حل ہے؟ آیا مہاجرة النساء کی صورت ہے؟ غرضیکہ جیسی تحقیق ہوتحریر ہو۔ مولانا تھانوی نے فرقت تین حیض سے لکھی ہے، کیا وہ بھی صورت ہے جو ہندوستان میں باقی ہے یا نہیں؟
جواب
ہندوستان کے متعلق پہلے سے اختلاف چلا آتا ہے، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب حضرت شاہ اسماعیل صاحب نے اس کو دار الحرب فرمایا ہے۔ مولانا عبدالحئی صاحب اور نواب صدیق صاحب اور مولانا عبدالباری صاحب نے اس کا انکار کیا ہے۔ طرفین اہل تحقیق اس میں اور اپنے دعوئی پر دلیل بھی پیش کرتے ہیں جیسا کہ مجموع فتاوی اور فتاوی عزیزی میں کہیں موجود ہے اور یہ اختلاف در حقیقت دارالحرب کے آثار اور علامات…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔