زوجہ مسجون کا حکم
سوال
مسماۃ حسینہ خاتون دختر گھسیٹہ قومپٹھان ساکن سہارنپور کی شادی نیاز احمد پسر عبد اللہ قوم راج پوت ساکن حال جیل خانہ آگرہ کے ساتھ عرصہ پندرہ سال ہوئے ہوئی تھی، جس روز سے شادی ہوئی اس روز سے نیاز احمد نے روٹی وکپڑے سے تنگ رکھا اور ہمیشہ جیل خانہ میں رہنے کا عادی ہے، چند مرتبہ کا سزا یافتہ ہے، جس وقت جیل سے چھوٹ کر آتا ہے، فوراً پھر جیل میں چلا جاتا ہے، مسماۃ حسینہ خاتون کے پاس ایک لڑکا فیاض احمد ومسماۃ حسینہ خاتون دختر موجود ہے، جس کے خورد ونوش کا کوئی انتظام نہیں ہے بچہ نابالغ ہے مسماۃ حسینہ خاتون جوان ہے، کہیں محنت…
جواب
جوشخص قصداً ایسی حرکات کا عادی ہو کہ جن سے بار بار جیل خانہ جانا پڑتا ہو اور ایسی حالت میں بیوی کا نان نفقہ ادا نہ کر سکتا ہو تو اس کی بیوی کو اپنی مجبوری اور پریشانی کی وجہ سے حق حاصل ہے، کہ کسی طرح لالچ دے کر یا خوف دلا کر اس سے طلاق لے لے اگر جیل خانہ میں ہونے کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے یہ دشوار ہو تو پھر حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے اور وہ حاکم مسلم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔