نومسلمہ کا نکاح عدت سے پہلے
سوال
ہندہ نے اسلام قبول کیا اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد فوراً ہی وہ یہ چاہتی ہے کہ میرا نکاح زید سے (جو خاندانی مسلمان ہے) ہو جائے اور زید بھی راضی ہے مگر شرعاً تین حیض کی مدت گزارنے کے بعد ہی نکاح کی اجازت دی گئی ہے تو اس صورت میں قاضی وقت ان دونوں کے اصرار پر نکاح پڑھا دے تو نکاح بلا کراہت درست ہوگا۔ اگر صحیح بھی ہو جائے تو کیا ترک عدت کا گناہ ان دونوں کے ذمہ عائد ہوگا کیا قاضی صاحب بھی گنہگار ہوں گے؟
جواب
اگر اس کا شوہر موجود ہے تو فوراً اس کا نکاح درست نہیں اس سے وہ بھی گنہ گار ہوگی اور مرد بھی گنہگار ہوگا اور قاضی صاحب بھی گنہگار ہوں گے۔ قبول اسلام کے بعد (اگر شوہر مسلمان نہ ہو) تین حیض گذرنے پر وہ بائنہ ہوگی پھر اس کے بعد تین حیض بطور عدت لازم ہوں گے۔ پھر نکاح درست ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔