نومسلمہ کا اسلام لانے کے بعد نکاح
سوال
ایک عورت غیر مسلمہ کی شادی اپنے مذہب کے اعتبار سے سات سال کی عمر میں ہو چکی تھی۔ لیکن بلوغ تک نہ شوہر کے گھر گئی نہ اس سے کچھ تعلق پیدا کیا اس کے بعد وہ ایک مسلمان کے گھر رہنے لگی اور مسلمان ہو کر اسی دن اس سے شادی کر دی۔ اس کے بھائی اس کی شادی دوسری جگہ کر دینا چاہتے تھے۔ شادی کے بعد اس کے ایک لڑکا چار سال بعد ہوا تو کیا قبولیت اسلام کے بعد کیا ہوا نکاح درست ہوایا نہیں؟
جواب
شوہر والی عورت (مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ) جب دارالحرب میں اسلام قبول کرے تو تین حیض گذرنے پر اس کا نکاح فسخ ہوتا ہے پھر اگر غیر مدخولہ ہو تو اس پر عدت واجب نہیں ہوتی بلکہ نکاح فسخ ہونے کے بعد اس کا نکاح درست ہو جاتا ہے۔صورت مسئولہ میں اسلام قبول کرتے ہی اس کا نکاح دوسری جگہ کر دیا گیا یہ درست نہیں ہوا تین حیض کا انتظار لازم تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔