نومسلمہ کو چھ مرتبہ حیض کے بعد نکاح کی اجازت ہے
سوال
ایک عورت جو غیر مسلمہ اور شادی شدہ ہے اور اس عورت کے غیر مسلم شوہر سے اولاد بھی ہے۔ لیکن ایک مسلمان اس عورت کے ساتھ اور عورت بھی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ عورت کا کہنا ہے کہ میں نہ ہندو ہوں نہ مسلم۔ مگر ٹیکا لگاتی ہے یعنی اس میں شرک کی آمیزش ہے اور اس مسلمان نالائق نے بھی جمعہ تک کی نماز چھوڑ دی۔ اس نے اس غیر مسلمہ کے خاوند کو طلاق پر آمادہ بھی نہ کیا نہ وہ مسلمان ہوئی۔ نہ یہ پورا مرتد ہوا۔ غرض ان دونوں کو شرعاً کس طریقہ سے الگ کرنا یا ملانا چاہئے؟
جواب
اگر دونوں ملے ہوئے ہیں تو ان کو فوراً الگ الگ کرا دیا جائے اور عورت اسلام قبول کرلے۔ ٹیکہ وغیرہ مشرکانہ چیزیں چھوڑ دے۔ جب اسے چھ مرتبہ ماہواری آجائے تو اس مسلمان سے اس کا نکاح کر دیا جائے اس وقت تک عورت کسی دوسری عافیت کی جگہ رہے۔ کلمہ اور نماز وغیرہ آہستہ آہستہ سیکھتی رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔