الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے بعد نکاح خواں اگر انکار کر دے تو دوسرے نکاح کا حکم

سوال

ایک عورت نے برضاء ورغبت خویش ایک شخص سے بحضور شاہدین نکاح کرایا دو گواہوں کے علاوہ نکاح پڑھانے والا ایک تیسرا آدمی تھا کہ عرصہ کے بعد چار پانچ عامی آدمیوں نے (جو کہ نہایت غضب وغصہ میں تھے) نکاح خواں سے ڈرا کر پوچھا کہ تو نے اس عورت کا نکاح فلاں شخص سے پڑھایا ہے؟ ان کی غصہ بھری حالت کو دیکھ کر نکاح خواں نے جواب میں کہا کہ نہیں۔ صرف نکاح خواں کے اتنا کہنے پر انہوں نے اس عورت کا نکاح دوسری جگہ پڑھ دیا۔

جواب

اگر زوجین اپنے نکاح پر قائم ہیں اور دو گواہ عاقل وبالغ ومسلم موجود ہیں کہ ہمارے سامنے ایجاب وقبول ہوا ہے تو وہ نکاح صحیح ہے اور اس حالت میں عورت کا دوسرا نکاح درست نہیں ہوا۔ نکاح خواں ایجاب وقبول کے لئے محض وکیل ہوتا ہے اصیل مقر ہے اور گواہ بھی رکھتا ہے تو پھر وکیل کا انکار معتبر نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو