الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے بعد رخصتی سے قبل نکاح ثانی

سوال

دو نکاح ۱۹۶۸ء میں ہوئے۔ ایک نکاح جناب مست عرف عبدالحمید صاحب پسر جناب مولیٰ بخش صاحب ساکن قرول کا ہمراہ مسماۃ رشیدہ بانو دختر چاند محمد ساکن جے پور کا ہوا۔ یہ نکاح جے پور میں ہوا۔ دوسرا نکاح جناب ولی محمد صاحب پسر جناب چاند محمد صاحب ساکن جے پور کے ہمراہ مسماۃ روشن جہاں دختر جناب مولیٰ بخش ساکن قرول سے ہوا۔ یہ نکاح قرول میں ہوا۔ یہ دونوں نکاح آٹے ساٹے کے تھے۔ یعنی روشن جہاں عبدالحمید کی بہن تھی اور رشیدہ بانو ولی محمد کی بہن تھی۔

جواب

رشیدہ بیگم کے شوہر نے اگر طلاق نہیں دی اور عدالت نے یک طرفہ بیان پر تفریق کر دی تو اس سے شرعاً نکاح ختم نہیں ہوا اور دوسری جگہ نکاح درست نہیں ہوا۔ اگر باوجود علم کے دوسرا نکاح کیا گیا ہے تو خود رشیدہ بیگم اور اس کے ولی اور نکاح کے شاہد اور وہ شخص جس سے نکاح کیا گیا ہے سب گنہگار ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو