الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بغیر طلاق کے دوسری جگہ نکاح کر دینا

سوال

ہندہ کی بچپن کی حالت میں برضاء والدین ایک گاؤں میں شادی ہوگئی تھی پھر بوجہ جھگڑا ہونے کے والدین نے یہ کہا کہ ہم وہاں نہیں بھیجیں گے پھر پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ والدین نے نکاح پڑھا دیا بغیر طلاق لئے۔ اس کے دوسال بعد ان سے لڑائی کر کے طلاق لی پھر نکاح ثانی نہیں ہوا پھر زوج ثانی نے ہندہ کو مار پیٹ کر باہر نکال دیا پھر اس نے زبردستی ہندہ کو پکڑ کر گھر میں بٹھا لیا۔

جواب

نابالغی کی حالت میں جب والدین نے نکاح کر دیا تھا تو وہ لازم ہو گیا تھا اس کے بعد بلا طلاق جو نکاح ثانی کر دیا گیا وہ قطعاً ناجائز ہوا بلکہ بدستور پہلے شوہر کا نکاح برقرار رہا اور جب شوہر اول نے طلاق دی تب اس کی زوجیت سے علیحدہ ہوگئی لیکن نکاح ثانی قبل از طلاق ہوا ہے وہ کسی طرح جائز نہیں ہوا اور پھر بعد میں بھی نکاح ثانی کی تجدید نہیں کی گئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو