زوج اول سے نکاح بغیر طلاق زوج ثانی
سوال
زید نے اپنی منکوحہ کو طلاق بائن دیدی اور عورت مطلقہ نے پونے دوماہ کے بعد عمرو سے نکاح کر لیا اس کے چند روز کے بعد اول خاوند زید کے پاس چلی گئی اور زید سے تین لڑکے پیدا ہوئے اب زید کہتا ہے کہ میں اس عورت کو از روئے شرع شریف حلال کر کے رکھنا چاہتا ہوں فلہذا علماء دین اس کی صورت مع حوالہ کتب معتبرہ بتائیں۔
جواب
بغیر عمرو سے طلاق حاصل کئے زید سے نکاح نہیں ہوسکتا زید سے جو تعلق اس مدت میں رہا وہ مطلقاً حرام اور زنا ہے اور ان تین لڑکوں کا نسب بھی زید سے شرعاً ثابت نہیں پونے دو ماہ میں عدت طلاق (تین حیض) گزر سکتی ہے۔ لا یجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج اھ عالمگیری ص۲۸۰/جار جواب صحیح ہے لیکن یہ شرط ہے کہ عورت نے انقضاء عدت کا دعویٰ بھی کیا ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔