الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غلط بیان کے ذریعہ فتویٰ لے کر شادی شدہ لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا

سوال

زید کی لڑکی کا نکاح بالغ ہونے سے پہلے لڑکی کے والدین نے کرادیا تھا مگر جب کہ لڑکی بلوغ کو پہنچی تو اس وقت باہم فریقین میں رضامندی نہ رہی اور نہ لڑکی کو طلاق ہی ہوئی لڑکی کے والدین نے ایک مولوی صاحب سے اصلیت کو چھپاتے ہوئے یہ بیان کیا کہ نکاح لڑکی کا مجھے بیہوشی کی دوا لگا کر کر دیا تھا اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں نے بیہوشی کی حالت میں اجازت دی یا نہیں دی نکاح جائز ہے یا نہیں یہ لڑکی کے والدین نے مولوی صاحب سے زبانی بیان کیا مولوی صاحب نے یہ سنکر لڑکی کے والدین کو یہ کہدیا کہ نکاح ناجائز ہے دوسرا نکاح کرادیا جاوے،…

جواب

مولوی صاحب جب کہ خود اصل واقعہ سے ناواقف تھے اورلڑکی کے والد نے غلط واقعہ بیان کیا اور مولوی صاحب نے اس کو صحیح سمجھتے ہوئے فتویٰ دیا تو اس میں مولوی صاحب کا قصور نہیں لیکن جس وقت ان کو صحیح واقعہ کا علم ہوا اور لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تو ان کو اپنا فتویٰ چھپانا نہیں چاہئے تھا بلکہ ان کے ذمہ لازم تھا کہ لوگوں سے نیز قاضی صاحب سے ظاہر کرتے کہ لڑکی کے والد نے مجھ سے یہ بیان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو