الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدالت سے اجازت لے کر نکاح

سوال

دو بہنیں تھیں، ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔ بڑی کی رخصتی کر دی، چھوٹی کی نہیں۔ پانچ سال کے بعد چھوٹی لڑکی کے شوہر نے کہا کہ لڑکی کو رخصت کر دو، تو لڑکی والوں نے منع کر دیا۔ اس کے بعد مقدمہ بازی شروع ہوئی۔ مقدمہ لڑکے والے جیت گئے مگر لڑکی والوں نے تب بھی نہیں بھیجا۔ اس کے بعد لڑکی والے نے دوسرا نکاح کر دیا اور یہ کہدیا کہ ہم نے سرکار سے طلاق لے لی، کیا یہ نکاح درست ہے؟ منع کرنے والوں نے بہت منع کیا مگر لڑکی والے نہیں مانے اور اس کے بارے میں پنچایت بھی ہوئی۔ پنچوں نے فیصلہ لڑکے کے حق میں دے دیا۔

جواب

چھوٹی بہن جب رخصتی کے قابل ہوگئی تھی اور اس کا شوہر رخصتی کا مطالبہ کر رہا تھا تو رخصتی کرنا لازم تھا۔ انکار کر کے عدالت سے اجازت لے کر دوسری جگہ اس کا نکاح کر دینا صحیح نہیں ہوا۔ اس کے شوہر پر بڑا ظلم ہوا۔ یہ نکاح شرعی نکاح نہیں بلکہ حرام کاری کا دروازہ ہے فوراً لڑکی کو وہاں سے علیحدہ کریں اور اصلی (پہلے)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو