نا بالغ کا نکاح غیر ولی نے کیا ولی نے طلاق دی پھر نکاح ثانی ہوا
سوال
زید نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح مسمی عمر کے نابالغ لڑکے سے کر دیا مسمی بکر نے جو عمر کا حقیقی بھائی ہے اپنے بھتیجے کے لئے قبول کیا، عرصہ ایک سال بعد مسمی بکر نے جو ناکح نابالغ کا باپ تھا اپنے لڑکے نابالغ کی جانب سے طلاق ثلاثہ دیدی طلاق کے بعد تقریباً ۴ رسال عرصہ گذرنے کے بعد اب مسمی زید نے اپنی لڑکی نابالغہ کا نکاح کسی دوسری جگہ کر دیا کیا عند الشرع نکاح ثانی جائز ہے؟ (۲) اور طلاق مسمی عمر کی نابالغ لڑکے کی جانب سے درست ہے؟ جواب مدلل ہو۔ (۳) اگر نہیں تو مسمی زید کی نسبت عند الشرع کیا سزا ہے؟ (۴)
جواب
اگر اول نکاح درست ہو چکا تھا یعنی عمر نے اس کی اجازت دے دی تھی (کیونکہ قبول عمر نے نہیں کیا جو کہ شرعی ولی ہے بلکہ بکر نے کیا ہے پس یہ قبول عمر کی اجازت پر موقوف ہے) تو یہ نکاح نافذ اور صحیح ہو گیا تھا اور عمر نے جو طلاق ثلاثہ دی ہے وہ واقع نہیں ہوئی جب طلاق واقع نہیں ہوئی تو نکاح ثانی درست نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔