بغیر طلاق نکاح ثانی
سوال
ایک لڑکی کی شادی ہوئی، شادی کے چھ ۶/سات کے مہینہ کے بعد لڑ کا کلکتہ شہر چلا گیا۔ لڑکی کا باپ کلکتہ میں رہتا ہے لڑکی کے باپ نے دریافت کیا کہ تم کیوں چلے آئے؟ کہا میرا گزارا مشکل ہے میں نہیں جاؤں گا تب لڑکی کے باپ نے اس کی دوسری شادی کر دی دوسرے شوہر سے بلا طلاق، اور نکاح پڑھانے والے بستی کے امام صاحب ہیں جب نکاح پڑھانے کے لئے گئے تو اس وقت امام نے لڑکی کے باپ سے کہا کہ دیکھو قیامت کا بوجھ تم پر ہے میں نکاح پڑھاتا ہوں تو عند الشرع اس نکاح کا کیا حکم ہے اور امام نکاح خواں اور شریک نکاح گواہ وکیل وغیرہ کے لئے کیا حکم…
جواب
یہ نکاح شرعاً درست نہیں جو اس نکاح میں شریک ہوئے سب گنہگار ہیں۔ سب کو توبہ لازم ہے اور ان دونوں کو علیحدہ کرنا ضروری ہے لڑکی کو اس کے شوہر کے پاس کلکتہ پہنچا دیں یا شوہر سے طلاق حاصل کریں جب وہ طلاق دیدے اور عدت گذر جائے تب دوسری جگہ نکاح کریں اس سے پہلے نہیں یہ امام صاحب بھی گنہگار ہیں ان کو ہرگز یہ نکاح پڑھانا جائز نہیں تھا اگر وہ توبہ کر کے اپنے پڑھائے ہوئے نکاح سے دونوں کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔