الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فیصلہ عدالت کے بعد نکاح ثانی

سوال

ایک عورت عدالت میں دعوئی پیش کرتی ہے جس نے اپنے خاوند پر ایک عورت کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی ہے اور ساتھ ہی اس بات کی بھی کہ مجھے میرا شوہر بری طرح مارتا پیٹتا ہے اور مجھ پر زنا کی تہمت لگاتا ہے مگر شوہر ان دونوں باتوں سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے نہ اس کو مار پیٹ کی نہ کوئی تہمت لگائی ہے اور جس کے متعلق یہ مجھ پر تہمت لگاتی ہے وہ میری نکاح کی ہوئی بیوی ہے اور یہ مدعیہ خود بھی یہ دعویٰ کرنے کے وقت اس عورت کو اپنے شوہر کے نکاح میں ہونے کا اقرار کرتی ہے اور یہ مدعیہ اپنے اس دعویٰ کی بنا پر کہ مجھے مار پیٹ…

جواب

(۱) شرعا یہ طلاق قطعاً غیر معتبر ہے اس مذکورہ طلاق کی وجہ سے اپنے شوہر کے نکاح سے نہیں نکلتی بلکہ بدستور اس کی بیوی ہے غیر مسلم حاکم نہ تو کسی مسلم کا نکاح فسخ کر سکتا ہے اور نہ اس کی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ اس کا حکم صورت مسئولہ میں کسی طرح نافذ نہیں أهله أي أهل القضاء أهل الشهادات فلا تصح تولية كافر وصبى الخ بحر ص ۲۶۰/ج ۶/. (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو