شوہر کی موجودگی میں دوسرا نکاح غیر مملوک مکان کی بیع اور وقف
سوال
تنقیح کی گئی اب مولانا صاحب گذارش ہے کہ ہماری مسجد محلہ شیشگران فیروز آباد اس میں پانچ عہدیدار ہیں۔ ۳/آدمی رکن کمیٹی کے ممبروں میں کل صدر سیکرٹری، خزانچی اور اس کے علاوہ ۲۸ ممبر ہیں، لیکن ان میں معاملہ الجھن میں پڑ گیا۔ ایک عورت مسماۃ حمیدن ضلع علی گڑھ کی رہنے والی ہے اس کا شوہر موجود ہے۔ اب سے بیس سال پہلے وہ عورت فیروز آباد آ گئی ہے۔ اور اس عورت نے میرے ماموں بنام ننھے سے نکاح کرلیا۔ ایک دوسرے مرد نے علی گڑھ سے لا کر ۵۰۰ روپیہ اس کو ننھے کو دے دیا ہے، حالانکہ پہلے شوہر نے طلاق نہیں دی تھی۔ اس کے دو بچہ بھی ہیں۔
جواب
جب ننھے کو معلوم تھا کہ یہ عورت دوسرے شخص کی بیوی ہے اور شوہر نے طلاق نہیں دی ہے بلکہ دھوکہ دیکر اس کو لایا گیا ہے تو ننھے کا اس سے نکاح جائز نہیں تھا وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ہے۔ جتنی مدت تک وہ ننھے کے ساتھ رہی معصیت و حرام کاری ہوتی رہی۔ ایسی صورت میں وہ شرعا ننھے کی بیوی نہیں۔ ننھے کے ترکہ سے کچھ بھی پانے کی حقدار نہیں۔ مکان کا چوتھائی حصہ فروخت کرنے کا اس کو حق نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔