نکاح پر نکاح اور اس میں شرکت کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص اپنی لڑکی شادی شدہ کا نکاح دوسری جگہ کر دے جب کہ شوہر سابق خود نان ونفقہ کا ذمہ دار ہے۔ تو ایسے شخص اور شریک نکاح اور نکاح خواں کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب
جب کہ شوہر نے طلاق نہیں دی اور ضروریات ونفقہ کا کفیل ہے اور حقوق زوجیت ادا کرتا ہے تو پھر دوسری جگہ نکاح کا کوئی حق نہیں ہے لڑکی کے والد نے ایسی حالت میں جو نکاح کیا ہے تو یہ شرعی نکاح نہیں بلکہ زنا اور حرام کاری ہے۔ یہ معصیت کبیرہ اور انتہائی بے غیرتی ہے۔ علم کے باوجود جو لوگ اس میں شریک ہوئے وہ بھی سب گنہگار ہوئے۔ سب کو صاف صاف توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔