جبراً نکاح پر نکاح
سوال
زید کی شادی ایک عورت سے اس طرح ہوئی کہ زید کی ہمشیرہ ان کی بیوی کے رشتہ دار منسوب کی جاتی ہے کچھ عرصہ کے بعد زید کی ہمشیرہ حالت بلوغت میں ہو جاتی ہے اور ان ایام میں زید کی بیوی بھی اپنے والدین کے یہاں ہے زید کی ہمشیرہ بخوشی خود دوسری جگہ اپنا نکاح ثانی کر لیتی ہے مگر اس میں زید کے سسرال والے زید کی ہمشیرہ کی اس نکاح ثانی کے خلاف ہے حالانکہ زید کی ہمشیرہ بالغ ہے اس ناراضگی میں چند آدمی زید کی بیوی کو زید کے گھر آنے سے منع کرتے ہیں جس پر زید عدالتی چارہ جوئی کر کے حقوق زوجیت کا دعویٰ دائر کرنے کے بعد ڈگری حاصل کرتا…
جواب
زید کا نکاح جب شریعت کے موافق صحیح اور نافذ ہو گیا اور پھر نہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی نہ قاضی نے تفریق کی تو زید کے سسرال والوں نے جو زید کی بیوی کا نکاح دوسرے شخص سے کر دیا تو وہ نکاح نا جائز ہے لا یجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج عالمگیری ص ۲۸۸/ج ۲/اب جب کہ زید کی بیوی زید کے پاس آگئی تو زید کو مواصلت کے لئے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں البتہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔