الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

منکوحہ کا فرار ہو کر دوسرا نکاح کر لینا

سوال

ایک لڑکی کو شوہر اس کی ماں کے یہاں چھوڑ کر بمبئی چلا گیا اور خط میں لکھا کہ میں دوماہ کے بعد آرہا ہوں۔ مگر لڑکی آٹھ دس روز بعد ہی گھر سے نکل گئی اور اس نے عدالت میں جا کر کسی دوسرے سے نکاح کر لیا نہ اس کے شوہر نے طلاق دی اور نہ وہ بمبئی سے ابھی تک آیا ہے۔ تو یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟

جواب

جب یہ معلوم ہے کہ شوہر موجود ہے خط وکتابت بھی کرتا ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی پھر بھی دوسرا نکاح کر لیا۔ تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔ عورت سے اگر صحبت ہوئی تو وہ حرام ہوئی عورت بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں موجود ہے۔ فوراً اس شخص سے علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ اگر علیحدہ نہیں ہوگی حرام کاری میں مبتلا رہے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو