الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر لاپتہ ہو جائے تو نکاح پر نکاح کا کیا حکم ہے؟

سوال

ایک عورت نے جس کا خاوند یکسال سے گھر سے چلا گیا تھا اور اس کا کچھ پتہ نہیں کہ آیا وہ مر گیا یا کہ زندہ ہے اس عورت نے ایک میانجی کو بلا کر اپنا نکاح کسی اور سے کر لیا اور سوائے اس عورت کے کہ اس نے میاں جی سے کہا کہ میرا خاوند مر گیا ہے اور کسی محلہ والے نے نہ کچھ کہا اور نہ عورت کا چال چلن درست ہے صبح کو محلہ والوں کو علم ہوا کہ اس عورت نے اپنا نکاح کر لیا ہے۔ میاں جی کو بلا کر دریافت کیا گیا کہ تم نے نکاح کس طرح پڑھایا ہے اس نے کہا کہ میں نے محض عورت کے کہنے سے نکاح پڑھایا ہے۔

جواب

اگر میاں جی کو اس کے شوہر کے زندہ ہونے کا حال نہیں معلوم تھا اور عورت کے کہنے سے یقین کر کے نکاح پڑھادیا تو اس سے میاں جی کی امامت میں نقصان نہیں آیا نہ میاں جی کا نکاح ٹوٹا اور جس شخص سے نکاح ہوا ہے اگر اس کو بھی علم نہیں تھا اور عورت کی بات کا یقین کر کے اس سے نکاح کیا ہے تو گناہ نہیں ہوگا البتہ تا وقتیکہ پہلے شوہر سے شرعی طریق پر موت، خلع اور طلاق کے ذریعہ سے جدائی ہو کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو