الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مجلس عقد میں قبول سے انکار کے بعد قبول

سوال

زید کی بارات عمر کے گھر گئی۔ قاضی نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔ مہر کی زیادتی کی وجہ سے لڑکے نے انکار کر دیا۔ اس کے والد نے سمجھایا تو وہ راضی ہو گیا۔ قاضی صاحب بھی اس دوران میں اٹھ کر چلے گئے تھے۔ پھر واپس آکر لڑکی کے والد کو بلایا کہ نکاح پڑھوا لیجئے۔ اس نے کہا کل فیصلہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ لڑکے نے دوبارہ آکر قبول کرنے کا اقرار کیا۔ لڑکی کے والد نے قاضی صاحب کو بالکلیہ اختیار نکاح دیدیا تھا۔ یہ نکاح درست ہو گیا یا نہیں؟

جواب

قاضی صاحب نے نکاح کا ایجاب لڑکی کی طرف سے لڑکے کے سامنے پیش کیا۔ اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر لڑکے کے والد صاحب وہاں سے اٹھ کر دوسری مجلس میں اس کو لے کر گئے۔ ادھر قاضی صاحب مجلس سے اٹھ کر چلے گئے تو پہلا ایجاب بیکار ہو گیا۔ اب لڑکے کے قبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، جب تک لڑکی کی طرف سے اعادہ نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو