زوجہ غیر سے نکاح
سوال
ایک شخص نے اپنی لڑکی کی شادی اسلام سے کی۔ اس کے بعد لیاقت نے اپنی بددیانتی سے جس کی تفصیل یہ ہے کہ بہت سے کپڑے اور سونے چاندی کا سامان جو اسلام نے نکاح کے وقت بری میں دیا تھا وہ ضبط کر لیا۔ دوسرے یہ کہ اس بددیانت شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسرے شخص کے لڑکے سے کر دیا اور اپنے دولڑکوں کی شادی اس شخص کی دولڑکیوں سے کر لی۔ لڑکی کے نکاح ثانی کی نوعیت یہ ہوئی کہ لڑکی کے باپ نے قاضی کو جھوٹ کہا کہ اسلام نے لڑکی کو طلاق دیدی ہے اور اس جھوٹ پر فتوی بھی لے لیا ہے کہ چونکہ اس نے طلاق دیدی۔ لہذا اب نکاح ثانی کیا جاسکتا ہے۔
جواب
جب قاعدہ شریعت کے مطابق نکاح ہو جائے تو دونوں شوہر وبیوی بن جاتے ہیں اور اس بیوی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے جائز نہیں ہوتا بلکہ حرام ہوتا ہے۔ ولا يجوز للرجل ان يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج. فتاوی عالمگیری ص ۷ رج ۲ لہذا اس نے جو اپنی لڑکی کا دوسرا نکاح کر دیا ہے۔ یہ جائز نہ ہوگا اور ثبوت طلاق کے لئے صرف اس کا دعوی کافی نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔