الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے بعد فرار ہو کر دوسرے سے نکاح کرنا

سوال

ہندہ حنفیہ سنیہ ہے اس کی شادی زید اہل حدیث یعنی غیر مقلد کے ساتھ ہوئی تھی اور اس شادی کو تقریباً ایک سال ہوا۔ اس دوران ہندہ کے پاس شوہر کی آمد ورفت بھی رہی۔ پھر بکر جو کہ حنفی سنی ہے وہ ہندہ کو لے کر فرار ہو گیا اور ہندہ بکر کے ساتھ تقریباً ایک مہینہ غائب رہی۔ پھر ایک مہینہ کے بعد بکر کے ساتھ مکان واپس آئی اور بکر کے ساتھ شادی کر لی، حالانکہ زید نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے۔ تو اس بات کو لوگوں سے پوچھا تو کہا کہ یہ شادی جائز ہے، اس لئے کہ حقیقت میں ہندہ کے ساتھ زید کی شادی ہی نہیں ہوئی تھی۔

جواب

اگر وہ اہل حدیث آمین بالجبر ورفع یدین کا اہل حدیث ہے کہ ائمہ مجتہدین کو گالیاں نہیں دیتا اور علماء مقلدین کو مشرک نہیں کہتا تو ہندہ کا نکاح اس کے ساتھ صحیح ہو گیا۔ پھر ہندہ کا بکر کے ساتھ فرار اختیار کرنا اور اس کے ساتھ نکاح کرنا درست نہیں۔ یہ شرعی نکاح نہیں۔ جب تک زید اس کو طلاق نہ دے اور پھر عدت نہ گذر جائے اس کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو