بیوی کو فروخت کر کے فارغ خطی لکھدی، عدت پوری ہونے پر خریدار نے زبردستی اجازت لیکر نکاح کر لیا۔ بعدہ باپ نے بلا نکاح کورٹ کے فیصلہ کے بعد زید کے حوالہ کر دیا، زید سے نکاح کا حکم؟
سوال
ایک لڑکی مسماۃ خالدہ کا اس کے والد نے بقاعدہ شرعی رشید سے نکاح کر دیا۔ رشید نے کچھ مدت کے بعد اپنے دوست بکر سے کچھ روپیہ لیکر لڑکی کو بکر کے حوالہ کر دیا۔ بکر نے جس وقت روپیہ ادا کیا رشید نے لڑکی کو فارغ خطی لکھدی۔ لڑکی نے اپنی عدت مقررہ بکر کے گھر پوری کی۔ اس کے بعد بکر کی جانب سے وکیل اور گواہ نے لڑکی سے اجازت مانگی کہ وہ بکر سے نکاح کرلے لیکن لڑکی کی رضا مندی نہیں تھی، اس کو رضا مند کرنے کے لئے بکر نے اس لڑکی پر جبر وتشدد کیا۔
جواب
یہ صورت حال نہایت افسوسناک اور بے غیرتی کا مظاہرہ ہے۔ اس میں پہلا ظلم رشید کا ہے۔ دوسرا ظلم بکر کا ہے۔ رشید نے جب طلاق دی تو اس نے اپنا حق زوجیت قطع کر دیا۔ تیسرا ظلم والدین کا ہے کہ ان کی لڑکی کو بے غیرت داماد نے فروخت کر کے اجنبی آدمی کے حوالہ کر دیا اور انھوں نے اس کی خبر نہ لی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔