لڑکی کا جبراً نکاح
سوال
(۱) ایک بارہ سالہ لڑکی کو کسی ظالم نے عداوۃ زبر دستی باہر جنگل سے اٹھا کر اور بلا رضا مندی لڑکی کے اور بلا اجازت وارثین اس کا نکاح کر دیا۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے والدین ووارثین کو کچھ خبر تک بھی نہیں ہے بلکہ وہ شب وروز اس گم شدہ لڑکی کے متلاشی ہیں۔ اس صورت مذکورہ میں امام ابوحنیفہ کے نزدیک یا دوسرے کسی امام کے نزدیک یا حدیث وقرآن کی رو سے یہ نکاح صحیح ودرست ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
شرعاً یہ نکاح صحیح نہیں ہوا جس شخص نے باوجود علم کے یہ نکاح پڑھایا ہے وہ سخت گنہ گار ہے لڑکی اگر بالغہ ہو تو اس پر جبر کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ لا تجبر البالغة البكر على النكاح لانقطاع الولاية بالبلوغ اه در مختارص ۴۸۹/ ج ۲ / اگر نابالغہ ہو تو اس کا نکاح ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔