الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جبراً نکاح

سوال

ہندہ کا نکاح جبراً اس کے بھائیوں نے زید سے کر دیا باپ کا انتقال ہو چکا تھا ہندہ عاقل بالغ تھی رخصتی بھی جبراً کی گئی۔ اس حالت میں ایک سال ہوا شاید دومرتبہ اسی سال میں بیوی کی ملاقات ہوئی اس طریقہ سے ہندہ زید سے ہرگز خوش نہیں اور نہ نکاح کو مانتی ہے اس حالت میں ہندہ زید کی زوجہ ہے یا نہیں اگر ہے تو تفریق کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

اگر ہندہ نے صاف صاف انکار کر دیا تھا اور پھر بھی بھائیوں نے اس کا نکاح کر دیا اور نکاح ہو جانے کی خبر سن کر ہی ہندہ نے انکار کر دیا اور اس نکاح کو نا منظور کر دیا تو یہ نکاح صحیح نہیں ہوا پھر اس کا زید کے ساتھ رخصت ہونا اور ملاقات کرنا سخت گناہ ہوا ایسی صورت میں وہ زید کی زوجہ نہیں اگر ہندہ نے نکاح ہو جانے کی خبر سن کر خاموشی اختیار کی اور پھر زید کے ساتھ رخصت ہو کر چلی گئی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو