الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

والدین کا لڑکے کو اس کی ناپسند جگہ نکاح کے لئے مجبور کرنا

سوال

(۱) ہمارے ایک عزیز ہیں وہ اپنے لڑکے کی شادی اپنی عزیزہ کے یہاں کرنا چاہتے ہیں، اور لڑکا اس جگہ شادی کرنے کو آمادہ نہیں اور کچھ عزیز بھی وہاں کرنے کو اچھا نہیں خیال کرتے۔ مگر والدین معلوم نہیں کہ کسی دباؤ لالچ میں آکر لڑکے کو زبردستی وہاں پھنسانا چاہتے ہیں۔ اگر لڑکا وہاں شادی کرنے کو منع کر دے تو لڑکے کو نا فرمان تو نہیں کہا جائے گا اور گنہگار ہوگا یا نہیں؟ اور لڑکا اپنی مرضی سے خود شادی کر سکتا ہے یا نہیں جب کہ والدین رضا مند نہ ہوں؟ (۲)

جواب

(۱) والدین کو راضی رکھنا اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھنا سعادت ہے۔ لیکن اگر وہ ایسی جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں جہاں لڑکے کی طبیعت بالکل آمادہ نہیں اور وہ جانتا ہے کہ حقوق زوجیت ادا نہیں کر سکے گا، نباہ نہیں ہوگا جو کہ والدین کے لئے بھی کوفت کا سبب بنے گا، اس مجبوری سے وہ وہاں شادی سے انکار کر دے تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ نافرمانی کا گنہگار نہیں، مگر نرمی سے والدین کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو