اگر منکوحہ کو مرد کی نیت توقیت کا علم نہ ہو تو کیا نکاح موقت ہوگا
سوال
زید نے ایک عقد خفیہ طور پر دو گواہوں کے رو برو کیا اور عقد کے وقت ارادہ کر لیا کہ اس عقد کو اس وقت تک کے لئے کرتا ہوں جب تک کہ منکوحہ کا اچھا پیام دوسری جگہ سے آوے۔ کیونکہ اس عقد کا حال بوجہ خفیہ ہونے کے معلوم نہ ہوگا تو کوئی نہ کوئی ضرور پیام بھیجے گا اور اس شرط پر عقد کے موقت کو ایک گواہ کے سامنے تو بیان کیا اور دوسرے گواہ نے اس شرط کو قلت سماعت یا عدم توجہی یا بعد مقام کی وجہ سے نہیں سنا حالانکہ وہ وہاں موجود تھا مگر وہ گواہ اس شرط کو سننے کا منکر ہے (پھر بھی یہ شرط عقد موقت اس منکر گواہ کو دوسرے موقع پر تنہائی…
جواب
سائل نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اس مخفی شرط کو مخطوبہ یا ولی مخطوبہ کے سامنے بھی پیش کیا ہے یا نہیں؟ اگر مخطوبہ کے سامنے اس شرط کو پیش کیا اور اس نے اس کو قبول کیا یا اس کے نابالغ ہونے کی صورت میں اس کے ولی کے سامنے پیش کیا اور اس نے قبول کیا تو شرعاً یہ عقد صحیح نہیں ہوا بلکہ باطل ہوا، اس پر نکاح کے احکام مرتب نہیں ہوں گے اور محض عقد کی وجہ سے بغیر ہمبستری کے اس کی والدہ محرم نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔