الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ کا جبراً نکاح

سوال

ہندہ کا عقد نکاح بزمانہ بلوغ ہندہ زید کے ساتھ اس کے والدین نے کر دیا ہندہ اس نکاح پر قطعی رضامند نہ تھی اور نہ بر وقت ایجاب وقبول ہندہ سے اجازت نکاح لی گئی۔ ہندہ نے اس مقام پر بہت آہ وفغاں کر کے اظہار ناراضگی بھی کیا مگر حسب رواج ہندوستان ہندہ کی والدہ نانی وغیرہ نے ہندہ کو چپ کر کے دبا لیا اور کہا کہ تو بڑی بے حیا لڑکی ہے۔ ننگ خاندان وغیرہ کہہ کر آہ وفغان سے روکدیا۔

جواب

اگر ہندہ نے عقد کے بعد اس نکاح کو رد کر دیا تھا تو وہ رد ہو گیا تھا اگر رد نہیں کیا بلکہ سکوت کیا اور شوہر کے گھر چلی گئی (اگر چہ خوشی سے نہ گئی ہو) اور وہاں پہونچکر شوہر کے سامنے نکاح کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے بعد سختی سے تنگ آکر مقدمہ کی نوبت آئی اور مسلمان حاکم نے شوہر کی سختیوں کی تحقیق کر کے تفریق کر دی ہے تو شرعاًیہ تفریق معتبر ہے اب اس کو عدت طلاق تین حیض گزار کر نکاح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو