نکاح مکرہ
سوال
میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میرے فرزند غلام رسول کا مسماۃ نورانی کے ساتھ ناجائز تعلق مشہور تھا مسماۃ نوارنی کے سر اور خاوند سدانے مشورہ کیا کہ ایک رات نورانی کو میرے گھر روانہ کر دیا جائے میں اس وقت موجود نہ تھا جب نورانی میرے فرزند کے پاس آکر بیٹھی تو فوراً محمد نور مسماۃ نورانی کا سر بھی پہنچ گیا محمد نور نے آکر غلام رسول اور نورانی دونوں کو پکڑا اور شور وغل مچایا۔
جواب
جیسے کہ ظلم وتشدد سے مجبور ہو کر کوئی طلاق دیدے تو واقع ہو جاتی ہے۔ ناعاقبت اندیش اور سوء خیار وہ ہوتا کہ لالچ میں کہیں غیر کفو میں نکاح کر دیا جاتا جس سے سوء اختیار ثابت ہو کر آئندہ اس کا کیا ہوا نکاح محل کلام ہوتا۔ جیسا کہ علامہ شامی نے ردالمحتار میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ صورت مسئولہ اس میں داخل نہیں۔ غریب کے متعلق جو اشکال نکاح پر ہے وہ ہی مسئلہ طلاق پر بھی ہو سکتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔