بیوہ کا زبردستی نکاح
سوال
ایک بیوہ عورت ہے اس کے ہمراہ ایک لڑکی بھی ہے بیوہ ہونے کے بعد تقریباً سال بھر اپنے میکے میں رہ کر گذر بسر کیا بعد ازاں اس کے باپ نے ایک جگہ نکاح کی بات چیت کی نکاح ہونے کی خبر سن کر اس کا پہلا خسر اس کے میکے میں آیا اور کہا کہ تم میرے یہاں چلو میں اپنے دوسرے لڑکے کے ساتھ تمہارا نکاح کر دوں گا مگر وہ عورت جانے کے لئے کسی بھی طرح رضامند نہ ہوئی آخر کار عورت کی لڑکی کو اس کا خسر گود میں لیکر اپنے گھر چلا گیا لڑکی کو لینے کے لئے عورت نے اصرار کیا مگر وہ نہ مانا لہذا مجبور عورت لڑکی کی محبت سے اس کے پیچھے پیچھے چلی گئی…
جواب
اگر نکاح کے بعد بھی عورت نے انکار کیا ہے تو شرعا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا اور اگر نکاح کے بعد انکار نہ کیا بلکہ اجازت دیدی خواہ دوسروں کے برا بھلا کہنے ہی سے اجازت دی ہو تو نکاح صحیح ہو گیا پہلی صورت میں دوسری جگہ نکاح درست ہے۔ دوسری صورت میں جب تک شوہر طلاق نہ دے اور عدت نہ گذر جاوے دوسری جگہ نکاح صحیح نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔